ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جی ایس ٹی کے بعد کونسی چیزیں ہوں گی مہنگی اور کونسی ہوں گی سستی ؟

جی ایس ٹی کے بعد کونسی چیزیں ہوں گی مہنگی اور کونسی ہوں گی سستی ؟

Sun, 02 Jul 2017 00:34:29    S.O. News Service

نئی دہلی یکم جولائی (ایس او نیوز/جے این). صدر پرنب مکھرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے 30 جون کی رات یعنی 1 جولائی سے ملک بھر میں جی ایس ٹی نافذ کر دیا. اس کے بعد آج سے ہی ملک میں یقینی طور پر کچھ چیزیں اور سروسس سستی ہو گئی ہیں تو  کچھ مہنگی بھی ہوئی ہیں. کونسل کی جانب سے مجوزہ شرح کے مطابق پیکیجڈ اور پروسس فوڈ ايٹمس مہنگے ہو گئے ہیں. آپ کو بتا دیں کہ جی ایس ٹی کونسل نے اشیاء اور سروسس کو چار شرح 5،12،18 اور 28 میں تقسیم کیا  ہے.

ایسے میں اگر آپ  اس نئے نظام کے لاگو ہونے کے بعد جوس اور گھی خریدیں گے تو گھر کے راشن میں 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے کو ملے  گا۔
ساتھ ہی اب سے ٹیلیفون کے بل میں 90 فیصد اور براڈبینڈ کنکشن کے بل میں 36 فیصد کا اچھال نظر آئے گا. وہیں، صابن کے دام میں 24 فیصد کی ٹیکس کمی دیکھنے کو ملے گی.
گھروں میں استعمال ہونے والے گیس سلنڈر، نمک، تیل، چائے، آئیل ،  مصالحے کی قیمتوں میں کمی دیکھی جائے گی. وہیں، جوس  اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا.
باتھ روم  میں استعمال ہونے والی چیزیں جیسے دانتوں کا برش، ٹوتھ پیسٹ، اور نہانے  کے صابن سستے ہو جائیں گے لیکن، شیمپو، ڈیوڈینٹ، کریم اور پرفیوم مہنگے ہو جائیں گے.
جبکہ کھانا باہر کھانا اور کیبل ٹی وی (کمپیوٹنگ) سستے ہوں گے، ٹیلیفون اور انٹرنیٹ مہنگے  ہو جائیں گے.

اسی طرح گھر میں کھانے کی چیزیں  آٹا، شکر، دودھ، چاول، کورن فلیکس، پیکیجڈ چائے، کافی، آئس کریم ، نوڈلس، پنیر ، کاجو بیج کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائلس، اگربتی، نوٹ بُکس، فُٹ وئیر، اکنامی کلاس ہوائی جہاز کی ٹکٹ، موٹر سائیکل، اکنامی ہوٹلس،  الیکٹرک ٹرانسفارمرس، پرنٹرس، پین، لکثری کار وغیرہ سستے ہوں گے، جبکہ  چاکلیٹ، پیکجڈ چکن، بٹر، برانڈیڈ آٹا، ایورویدیک میڈیسن، بسکٹ، برانڈیڈ چاول، ائیر کنڈیشن ہوٹل، چہرے کے کریم، شمپو، چیونگ گم، ٹی وی، فریج، ائیر کنڈیشن، واشنگ مشین، ایل ای ڈی ٹی وی، فرنیچرس، گھڑی، سیل فون بل، انسورنس پریمیم، بینک سروس، کریڈٹ کارڈ سروس، میوزک آلات، اے سی ٹرین ٹکٹ، بزنس کلاس ائیر ٹکٹ،  مہنگے والے ہوٹل، مہنگی والی بائک ، لیگل سروس وغیرہ مہنگے ہوں گے۔


Share: